ہم انگلیوں کے پوروں سے نصیب ناپتے رہے | اردو غزل از سحر علوی (Sahar Alvii)


 ہم انگلیوں کے پوروں سے، نصیب ناپتے  رہے

وہ جو کائناتِ دست تھے،  غیر کی جاگیر بن گئے۔



آج ان ہاتھوں کو حسرت سے بڑی دیر تکتے رہے،

جو لکیروں میں میرا نام تھا، اور کے قریب بن گئے۔



ہم عمر بھر جن کی تمنّا کی دھوپ میں جلے،

وہ سائے کسی اور کی رات کا حبیب بن گئے۔



ہم اپنے ہی ہاتھوں کی لکیروں کو روتے ہی رہے،

وہ پورے کے پورے ہاتھ، کسی اور کا نصیب بن گئے۔



اب عمر بھر کی تیرگی کو اپنا مقدر سمجھ 'سحر'،

وہ ہاتھ جو صبحِ نو تھے میرے ، دستِ رقیب بن گئے۔

تبصرے