تم میرے دل میں خنجر کی طرح رہتے ہو رہنے دوں, تو خون بہتا رہتا ہے، نکال دوں تو جان جاتی ہے

 یہ دنیا بھی تماشائی بنی بیٹھی ہے محفل میں

سہوں تو آن جاتی ھے ، نہ سہوں تو جان جاتی ہے



میری غیرت کو اب وہ بدتمیزی کا نام دیتے ہیں

جو بولوں تو گلہ ٹھہرے، نہ بولوں تو جان جاتی ہے



 تم میرے دل میں خنجر کی طرح رہتے ہو رہنے دوں

 تو خون بہتا رہتا ہے، نکال دوں تو جان جاتی ہے




تری یادیں بھی اب سانسوں کی طرح آتی جاتی ہیں

نہ بھولوں تو تڑپتی ہوں، جو بھولوں تو جان جاتی ہے



عجب دھڑکن کا رشتہ ہے تمہاری بے رخیوں سے سحر

سنوں تو دل دکھاتا ہے، نہ سنوں تو جان جاتی ہے

تبصرے