دھول چہرے پر تھی اور آئینہ صاف کرتے رہے (بقلم سحر علوی مونس جفا)

 عمر بھر ہم یہی بھول کرتے رہے

دھول چہرے پر تھی اور آئینہ صاف کرتے رہے


وہ بدلتے رہے اپنے چہرے مگر

ہم زباں کے بھروسے پہ اعتبار کرتے رہے


جن کے دامن میں کانٹے ہی کانٹے رہے

ان کی راہوں میں ہم پھول نچھاور کرتے رہے


دل کے ارمان لٹتے رہے سامنے

اور ہم بے بسی میں بس آہیں بھرتے رہے


ہم نے مانگی تھی جن سے وفا کی دعا

وہ زمانے میں ہم کو ہی بدنام کرتے رہے


راستے موڑ کر وہ تو آگے بڑھے

ہم وہیں بیٹھ کر بس انتظار کرتے رہے


جن کی خاطر لٹائی تھی سچی خوشی

سحر وہ حسابِ غمِ دل وصول کرتے رہے


تبصرے