مسافتیں لمبی تھیں یا سفر نے تھکا دیا -



مسافتیں لمبی تھیں یا سفر نے تھکا دیا

تجھے کیا بتاؤں میرے ہمنشیں کس غم نے مجھے رلا دیا

جو کبھی غرورِ حیات تھا، وہ جو دُعاؤں کا شمار تھا

اُسی بے وفا کے ملال نے مری زندگی کو مٹا دیا

جو جلا کے بیٹھے تھے داغِ دل، وہی تیرگی کا سبب بنا

جو روشنئے سفیر تھا، اِسی واہمے نے دغا دیا

ہمیں جس کی چھاؤں عزیز تھی، وہی پیڑ دشتِ بلا ہوا

ہمیں اِسی عجز و نیاز نے، اِسی راستے میں گرا دیا

یہ جو تیرگی کا عذاب ہے، یہ کٹے گا کس کے یقین پر

جسے چاند بن کے چمکنا تھا، اُسی سحرؔ نے ہے رلا دیا

✍️ شاعرہ: سحرؔعلوی

💬 آپ کی رائے:

آپ کو اس غزل کا کون سا شعر سب سے زیادہ پسند آیا؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں اور اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

تبصرے

  1. جو کبھی غرورِ حیات تھا، وہ جو دُعاؤں کا شمار تھا

    اُسی بے وفا کے ملال نے مری زندگی کو مٹا دیا
    یہ لائن مجھے سب سے اچھی لگی

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں