مسافر ہوں میں وہ، کہ جس کو
نہیں اپنی منزل کی کوئی خبر۔
مجھے ہمسفر تو کئی ملے مگر
منزلیں تھیں ان کی یہیں کہیں
میرا سفر ہے بہت ہی طویل تر،
یوں ہی کٹ جائے گا ہو کر دربدر۔
نہ کوئی ساتھ چلا مخلص بن کر،
بس راستے بدلتے رہے عمر بھر ۔
اب اس اندھیری رات کے موڑ پر
خدا جانے کب نمودار ہوگی میری سحر!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں