رُلایا اس کو جاتا ہے جسے ہنستے ہوئے دیکھو
جو پہلے سے ہی روتا ہو، اسے رُلایا نہیں جاتا
ہمیشہ وار ہوتا ہے یہاں زندہ سلامت پر
جو مر جائے محبت میں، اسے مارا نہیں جاتا
مرا ظرف کہتا ہے، نعمتِ الفت جو ٹھکرائے
وہاں سے چھین لیتی ہوں دعائیں بھی، وفائیں بھی
تو بے قدر برحق ہے، میں واپس لے ہی لیتی ہوں
جو دھوکے سے ہی مانگی ہو، یا چھینی و جھپٹی ہو
مگر تحفے میں دی جائے محبت ہو یا دولت ہو
دیا ہو ظرف والے نے، سحرؔ، تحفہ چھینا نہیں جاتا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں