وہ مِیری سِمت کَبھی مُلتَفِت ہُوا ہی نہیں
میں اِس کے بَعد کِسی سے خَفا ہُوا ہی نہیں
بِچھا دِیا ہے جُھکا کر سَرِ نِیاز وَہاں
جَہاں پَہ رائی بَرابَر جُھکا ہُوا ہی نہیں
لَگا کے بَیٹھ گَیا ہوں بازی،جیت کی آس کی
وہاں سے کَھیل جو ابھی، شروع ہُوا ہی نہیں
ہَمارے خُونِ جِگر سے جَلی ہے شَمعِ وَفا
مَگر وہ اَندھیرا ہے جو کَم ذَرا ہُوا ہی نہیں
کَرَم کے نام پَہ یہ کَیسی بے رُخی ہے تِری
کہ دَرد بَڑھتا گَیا، اَب بَھلا ہُوا ہی نہیں
نَہ آئی اُس کو مُرَوَّت، نَہ آئی مِیری یاد
میں خُود کو بُھول گَیا، وہ جُدا ہُوا ہی نہیں
تَمام رات تَڑَپتے ہی کَٹ گئی سَحَرؔ
وہ مِہرِ صُبحِ تَمَنّا، عَودا ہُوا ہی نہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں