ہوا کے دوش پر اک خواب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں(بقلم سحر علوی مونس جفا)

 ہوا کے دوش پر اک خواب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں

درِ دل پر نیا اک باب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں


کسی کی یاد کا سورج جو دل میں ڈوبتا ہے تو

ہم اپنے اشک کا ہر آب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں


زمانے کی یہ ریت و رسم کیا ہم کو ڈرائے گی

سرِ دیوار اپنا جواب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں


بھلا کب تک چھپائیں گے اداسی کے یہ افسانے

نگاہِ شوق کا احوال لکھ کر چھوڑ آئے ہیں


جدائی کی گھڑی تھی اور اس کا نام آیا تھا

زمیں پر پیار کا اک خواب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں


سفر میں ہمدمِ جانی کو سراب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں

جسے چاہا، اسی کو اک عذاب لکھ کر چھوڑ آئے ہیں


پکڑنا چاہا تھا جس کو ، ریت کی مانند ہی وہ پھسلا

سحر،اپنے ہاتھ میں بس اضطراب لکھ کر چھوڑ آئے  ہیں 


تبصرے