اڑائی جس نے کھلی، وہ میرا ہی رازداں نکلا(بقلم سحر علوی مونس جفا)

 دلِ محرم جسے سمجھا، وہ بے مہرِ جہاں نکلا

اڑائی جس نے کھلی، وہ میرا ہی رازداں نکلا


مری سادگی کو جس نے جَہالت کا نام دیا

مری ہر اک فطانت پہ، وہ عیبِ بیاں نکلا


خود کو معتبر سمجھا، مجھے وہ کم مایہ کہہ گیا

مرا رتبہ گرانے میں، وہ کتنا نکتہ داں نکلا


جو کرتا تھا مری تعظیم، وہ بس اک دکھاوا تھا

مری تسکینِ دل دیکھ کر، وہ محوِ تمسخر خواں نکلا


وہ عکسِ پندارِ دل کھو گیا، اک وہم تھا شاید

نہ ڈھونڈوں گی اسے میں، کہ وہ تو بس گماں نکلا


ملائے گا خدا جنت میں، وہ بدلے گا نہیں ہرگز

خیالوں میں ہی چاہوں گی، دلِ مضطر فغاں نکلا


اندھیری رات کٹ جائے گی، ایمان ہے میرا

. مری اس تیرہ بختی سے، نیا حسنِ سحر نکلا



تبصرے