تو تھوڑا اور ذلیل کر مجھے
ابھی تیرے لیے پیار باقی ہے اس دل میں
بنا تھا جان سے پیارا، اپنا کہہ کر مجھے
اب بن رہا ہے وہ خود ہی بیگانہ اس دل میں
تیری یہ بے رخی اب مار ہی ڈالے مجھے
کیوں سلگ رہی ہے تیری ہی حسرت اس دل میں؟
دیا تھا مان پہلے، اب ستاتا ہے تو مجھے
بدل گیا ہے تو، پر نہ بدلا کچھ بھی اس دل میں
مرا یہ حال کر کے کیا ملا آخر بتا تجھے
میں کیسے اب رہنے دوں کوئی وہم اس دل میں
دیکھ کر روتا ہوا بھی ترس نہیں آتا تجھے
عجب پاگل پن ہے، اب بھی تیری چاہ ہے اس دل میں
برباد تو کر ہی دیا ہے، اب آ کر خاک میں ملا مجھے
کہ ختم ہو جائے تماشہِ سحر بھی اب اس دل میں

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں