مجھے پاس رکھ کر چاہے ستم کا مزہ لیتے رہنا(بقلم سحر علوی مونس جفا)

 دل نکال لو خنجر سے یا جفا سے لیتے رہنا،

مجھے پاس رکھ کر چاہے ستم کا مزہ لیتے رہنا۔


دردِ دل کی میرے پاس کوئی دوا ہی نہیں،

بس تیرے ہاتھ سے زخموں کی سزا لیتے رہنا۔


مجھے منظور ہے، ہر ایک ستم اے شہسوار،

تو میرے خونِ جگر سے اب وفا لیتے رہنا۔


میری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر مسکرانا تم،

میری بے بسی سے اپنی حیا لیتے رہنا۔


کوئی شکوہ نہ ہوگا  کبھی زبان پر میری ،

تم اپنے ہر ایک ظلم کی گواہ لیتے رہنا۔


تڑپتی رہے گی یہ جاں رات بھر تیری یاد میں،

تو میری سسکیاں سن کر نشہ لیتے رہنا۔


اگر کم پڑ جائے تیرے جشن کو رنگِ سُرخی،

تو میری رگوں سے یہ خوں بہا لیتے رہنا۔


میری ہر سانس پر بس تیرا ہی نام ہو،

تو میری اس خاموشی سے صدا لیتے رہنا۔


تیری نظروں کے سامنے ہی دم نکلے میرا،

تو ہر اک روز مار دینےکی ادا لیتے رہنا۔


موت آئے تو تیرے ہی ہاتھوں سے آئے مجھے،

زندگی بھر تو محبت میں بس قضا لیتے رہنا۔


تیری چوکھٹ سے نہ اٹھے گا جنازہ میرا،

تو مرنے کے بعد بھی مجھ سے حیا لیتے رہنا۔


بنا دینا میری خاک سے اک کھلونا تم،

اور کھیل کر اس سے دل کی گرہ لیتے رہنا۔


مٹ کے بھی نہ چھوٹے گا تیرے عشق کا دامن،

بوجھل نہ ہو جائے دل، یہ گمان لیتے رہنا۔


لو ہنس کے لٹا دی ہے 'سحر' نے  جاں اپنی،

.تم ہاتھ میں اب خنجرِ بیداد لیتے رہنا


تبصرے