میں فناہ ہوں تیرے عشق میں، تجھے دوسروں کا خیال ہے
کبھی میرے دل کی بات سن، مری تو زندگی کا سوال ہے
یہ جو فاصلوں کی ہے داستاں، یہ جو دوریوں کا ہے سلسلہ
کبھی تو بھی آ کے قریب دیکھ، میرا کیا ترے بن حال ہے
نہ وہ روشنی، نہ وہ رونقیں، نہ وہ رات بھر کی ہے گفتگو
تیرے بعد اب میری اس حیات میں، ہر ایک سمت زوال ہے
میں تو مٹ گیا تری راہ میں، مگر اب بھی دل کو امید ہے
تری بے رخی، اور یہ ستم، مری چاہتوں کا ہی تو کمال ہے
تیرے عشق کا یہ جو روگ ہے، مری جان کا یہ وبال ہے
نہ تو آ سکا نہ میں جی سکا، بن ترے مرنا بھی محال ہے
کسی اور سے ہے وفا تری، مگر مری چاہتوں کا زوال ہے
مری سمت تیرا یہ رخ سدا، تری ذات کا جاہ و جلال ہے
نہ سوچو، کہ تری طلب، مجھے دے گئی کوئی درد و غم
مری کیفیت پہ نہ جائیو، نہ سحرؔ کو کوئی بھی ملال ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں