جس کے پاس آئی ہے دولت، وہی خود دار لگا(بقلم سحر علوی کتاب مونس جفا)

 امیرِ شہر کا ہر عیب بھی یہاں معیار لگا 

غریبِ شہر کا اخلاص بھی ہمیشہ مکار لگا


زر دار کی عیاری بھی حکمت میں ڈھلی ہے

مفلس کی محبت تو فقط ایک مزاق لگا


وہ اگر مکر بھی لائیں تو سیاست ٹھہری

ہم نے گر سچ بھی کہا، اپنا بولنا فریب دار لگا


قدر کی ہم نے اگر، نام دیا چاپلوسی کا

ان کا ہر ایک دکھاوا ہی ہمیں سچا پیار لگا


ان کی مطلب کی یہ یاری تو بنی ایک کلاس

اپنا ہاتھ ان کو ہمیشہ ہی تو خوار لگا


ان کی لکھی ہوئی دو لائنیں فلسفہ بنیں

اپنا ہر دردِ جگر بھی ان کو تو بیکار لگا


کاش سمجھے یہ سحر! قدر و قیمتِ انسان

جس کے پاس آئی ہے دولت، وہی خود دار لگا. 


تبصرے