دلِ ناپاک سے انسان کبھی بھی پاک کب ہو گا؟
کہ ابلیسِ کو بھی وضو کے یاد فرائض بہت ہیں
فقط سجدوں میں سر کو جھکانے سے کیا حاصل
یہاں تو روحِ انساں پر لگے دنیا کے عوارض بہت ہیں
دکھاوے کی عبادت سے نہیں ملتی خدا کی قربت
چھپے ہیں نفس کے پیچھے جو بندے کے حوائج بہت ہیں
اگر نیت میں کھوٹ ہو تو عمل سب رائیگاں ٹھہرے
زباں پر حق کا دعویٰ ہے مگر دل میں معارض بہت ہیں
چلو اب نفس کو ماریں، کریں دل کو مصفّا ہم
سحرؔ! ایمان کی راہ میں کٹھن امتحاں اور فرائض بہت ہیں

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں