غالب سے سحر تک ۔۔ مکالمہ

 مرزا غالب 

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر

یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہیں!


علامہ اقبالؔ

مسجد خدا کا گھر ہے، پینے کی جگہ نہیں

کافر کے دل میں جا، وہاں پر خدا نہیں!


احمد فرازؔ

کافر کے دل سے آیا ہوں میں یہ دیکھ کر فراز

خدا موجود ہے وہاں، پر اسے پتا نہیں!


وصی شاہؔ

خدا موجود دنیا میں ہر جگہ ہے، تو جنت میں جا

وہاں پینے سے روک ٹوک اور کوئی منع نہیں!


ساقیؔ

پیتا ہوں غمِ دنیا بھلانے کے لیے اے ساقی

جنت میں کون سا غم ہے، اس لیے وہاں مزہ نہیں!


سحرؔ علوی


پینا اسے نہیں کہتے جو پیتے مے خانے میں سحرؔ

پینا تو یار کے غموں کو ہے، جس میں گناہ نہیں!


مسجد ہو، بیاباں ہو یا جنت، ہمیں جگہ سے کیا؟

ہم تو دکھوں کو پیتے ہیں، اس پر سزا نہیں!


وہ ہر جگہ موجود ہے تو پھر جگہ کی بحث ہی کیوں؟

ہم دردِ دل پیتے ہیں وہاں، جہاں کوئی دیکھتا نہیں!


پوچھا گیا ہے، اہلِ مے کے سلسلے میں آنے کا سبب

ہم بھی تو زہرِ وقت پیتے ہیں، کیا یہ پینا نہیں؟


زاہد نہ کر ملامت ہمیں ہمارے اکھڑ مزاج پر

جو درد ہم نے جھیلا ہے، وہ تو نے جیا نہیں!


دنیا سمجھ رہی ہے ہمیں رند و خراب و بے عمل

اس دل کے ٹوٹنے کا مگر کسی کو پتا نہیں!


ختم ہوئی بحث یہاں، سمیٹ لو مے اور مصلّے سحرؔ

وہ دل میں دھڑکتا ہے، جو کہیں ملتا نہیں!



تبصرے