تمہیں میں یاد آؤں گی، مگر ایک موڑ پر جا کر(بقلم سحر علوی کتاب مونس جفا)

 تمہیں میں یاد آؤں گی، مگر ایک موڑ پر جا کر

جہاں دنیا ستم دے گی، اور کوئی ہمدرد نہ ہوگا


پکارو گے مجھے تم بھی اندھیری رات کے دکھ میں

مگر اس وقت راہوں میں، کوئی سایا بھی نہ ہوگا


ملے گا ہر کوئی اپنی ہی مصلحت کے سانچے میں

تمہارا درد جو سمجھے، کوئی ایسا دل نہ ہوگا


بہت مغرور پھرتے ہو جو اس بزمِ تمنا میں

حقیقت جب کھلے گی، کوئی پرسشِ حال نہ ہوگا


ستائے گی تمہیں جب بھی پرانی یاد کی خوشبو

تڑپ جاؤ گے تم بھی، پر کوئی مرہم نہ ہوگا


ہمارے بعد ہی تم کو وفا کی قدر آئے گی

مگر ہم کھو چکے ہوں گے،اور ہم سا بھی نہ ہوگا


پکارے گی "سحر" کو جب تمہاری بے بسی ایک دن

بہت دیر ہو چکی ہوگی، کوئی سننے والا نہ ہوگا


تبصرے