دل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے ہوئے ہم(بقلم سحر علوی کتاب سَحَرِ مُونِسِ جَفَا)


 دل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے ہوئے ہم

اب کسی اور کے سانچے میں کہاں ڈھلتے ہیں؟


ہم نے اپنوں کی تحقیر کے خزانے بہت جھیلے

آئینے میں بھی اب اپنے سے حیا کرتے ہیں!


بے رخی اتنی سہی ہم نے محبت میں یہاں

اب تو ہم پیار کے لفظوں سے بھی بہت ڈرتے ہیں


مجھے لگتا تھا کہ وہ بدل دیں گے مقدر میرا

آج وہ بدل کر راستے، چپ چاپ نکلتے ہیں


اب مے خانے کی شراب کا کیا شکوہ کرنا

ہم تو زمانے کی تلخیوں کا زہر پیتے ہیں


ختم ہوا یہ تماشہ، اب آئینے کو توڑ دو سحرؔ

ٹوٹے ہوئے دل، بھلا شیشوں میں کب سنورتے ہیں؟



تبصرے