میں نے اپنی مخلصی وار دی تجھ پہ(بقلم سحر علوی کتاب سَحَرِ مُونِسِ جَفَا)


 میں نے اپنی مخلصی وار دی تجھ پہ

تجھ سے ایرے غیرے نہ وارے گئے مجھ پہ!



جو کھائے تھے دھوکے، وہ سب لکھ دیے دل پہ

اب چہرے محبت کے کھلتے نہیں مجھ پہ!



وہ باتیں، وہ وعدے، سب خاک ہوئے پل میں

اب جھوٹے دلاسے اثر کرتے نہیں مجھ پہ!



زمانے کی تلخی کا زہر پی لیا ہنس کے

پر اپنوں کے یہ طنز اب سجتے نہیں مجھ پہ!



ضروری نہیں  کوئی وعدے لفظوں میں کر گزرے

کچھ وعدے سے بھی اونچے خواب بھاری تھے مجھ پہ!



میں مخلصی کی حد سے بھی اوپر گئی تھی بہت

یہ ٹوٹے ہوئے چہرے اب جچتے نہیں مجھ پہ!



میں خاموش کیا ہوئی، زمانہ ہی بدل گیا سحرؔ

اب مصلحت کے فیصلے چلتے نہیں مجھ پہ!



تبصرے