تمہیں کیا معلوم (بقلم سحر علوی مونس جفا)


دِل کی جاگِیر کا اَحوال تُمہیں کیا مَعلُوم

عِشق کی رَمز کا یہ سَوال تُمہیں کیا مَعلُوم


جَیسے گوشت خور، گھاس کا ذائقہ نہ جانے

اَیسے ہی اُلفت کا کَمال تُمہیں کیا مَعلُوم


مَیں نے مَحَبّت جِسےکی ھے ، وہ تُم تو نَہِیں ہو 

تُم جو نِکلے ہو بَدَل، یہ مَلال تُمہیں کیا مَعلُوم


عَکسِ پِندار ھے وہ، یا کوئی مَیرا وَہم ھے

جِسے پُوجا گیا ماہ و سال، ہے کَون تُمہیں کیا مَعلُوم


تُم تو واقِف ہی نَہِیں اُلفتِ تَاثِیر سے اَب

مَیری چاہَت کا یہ جَلال تُمہیں کیا مَعلُوم


تُم تو ساحِل پہ کھڑے دیکھ رہے ہو طُوفاں

ڈُوبتے دِل کا یہ زلزال تُمہیں کیا مَعلُوم


دِل کَہتا ہے کہ دیر سے پَہنچ کر گَنوایا ہے اسے

مُجھ میں اُٹھتا ہے جو یہ سَوال تُمہیں کیا مَعلُوم


سُنی جو غَیر کی باتیں تو کھو دی قَدر بھی مَیری

رُتبہ دِل جو کِیا تُم نے پامال، دَرد مَیرا تُمہیں کیا مَعلُوم


مُجھے مداری کہا، چالوں کا اِلزام دے کَر

دی جو تُہمَتِ فَرِیب کا وبال، تُمہیں کیا مَعلُوم


مَیرے سَجدوں کی گَواہی تو خُدا دے گا تُمہیں

مَیری عَقِیدَت کا یہ مَآل تُمہیں کیا مَعلُوم


تُم نے سَمجھا ہے فَقَط کھیل مَحَبّت کو یہاں

رُوح کی تَڑپ کا یہ اِجمال تُمہیں کیا مَعلُوم


کِتنی صَدیوں کی رِیاضَت تھی تُمہیں پانے میں

کھو دِیا تُم نے جو فی الحال تُمہیں کیا مَعلُوم


بٹھایا تھا جِس جگہ تُمہیں، وہ مَقام کِسی اَور کو دُوں؟

اِس تَبدیلی کا اُٹھے گا جو دِل میں ہَڑتال، تُمہیں کیا مَعلُوم


رات بَھر جاگ کے کَٹتی ہے یہ کٹھن زِندگی

ہِجر میں دِل کا جو ہے میرا حال تُمہیں کیا مَعلُوم


اَکیلے کاٹنی پڑے گی اَب یہ بے دَرد زِندگی کَیسے

تَنہائی کی راہوں کا یہ کٹھن جَنجال، تُمہیں کیا مَعلُوم


مَیں نے پَلکوں پہ سَجائے تھے سِتارے تیرے

اَب جو آنکھوں میں ہے بَہتا سِیال تُمہیں کیا مَعلُوم


تُو نے دیکھا ہی نَہِیں ٹُوٹ کے بِکھرنا مَیرا

شِیشے کے ٹُوٹنے کا دَھمال تُمہیں کیا مَعلُوم


دِل کے مَقتَل میں جو رَونق ہے مَیری آہَوں سے

اِس اُداسی کا یہ جَمال تُمہیں کیا مَعلُوم


تُم ہَنسی دیکھ کَر ہی گُزَر جاتے ہو مَحفِل سے مَیری

مُسکراہَٹ کے پِیچھے کا تال تُمہیں کیا مَعلُوم


کِتنے اَرمان تھے جو خاک میں تُم نے رولے

اِن اُمِیدوں کا یہ سِسکتا بال تُمہیں کیا مَعلُوم


اَب کوئی خواب سَجانے کی سِکَندَر میں نَہِیں

مَیری وِیرانی کا یہ ڈھال تُمہیں کیا مَعلُوم


مَیں نے چاہا تھا کہ دُنیا سے چُھپا لُوں یہ دُکھ

پَر زَمانے کا یہ تِیکھا بھال تُمہیں کیا مَعلُوم


مَیرے لَفظوں میں جو جَلتی ہے مِری چَشمانِ تَر

اِس غَزَل کا یہ تَپتا تھال تُمہیں کیا مَعلُوم


تیری بے رُخیوں کے تَمَانچے کھا کَر ڈوبتے دِل پر

کَیسے اُترتے ہیں شَاعِرَانَہ اِلہام، تُمہیں کیا مَعلُوم


تُم بَدَل کَر بھی مَیرے دِل میں رہے ہو اَب تک

تیری یادوں کا یہ حِصار تُمہیں کیا مَعلُوم


اَب بھی خالی ہے تیرے بَعد تیرے دِل کا مَقام

لُوٹ آؤ کہ سَحَرِ چاہَت کا زَوال تُمہیں کیا مَعلُوم


تبصرے