جس طرح رات گئی دن بھی گیا ہاتھوں سے
اس طرح کسی شام ہم نے بھی گزر جانا ہے
جس نے روکا ہی نہیں ہم کو کبھی جانے سے
اس کی بستی میں بھلا ہم نے کہاں رہنا ہے
وقت کی تیز ہواؤں کا یہ جھونکا ہے میاں
نقشِ پا بن کے ہمیں خاک میں مل جانا ہے
لوگ کہتے ہیں کہ اک روز بدل جائے گا وقت
ہم نے تو وقت کے سانچے میں ہی ڈھل جانا ہے
شمعِ محفل کی طرح جلتے رہے ہم تو سدا
صبح ہوتے ہی مگر ہم نے بھی بجھ جانا ہے
آج روتے ہیں جو کل ہنس کے اڑاتے تھے ہمیں
ان کی آنکھوں کو بھی اک روز تو نم ہونا ہے
روشنی بن کے چمکنا ہے اندھیروں میں ہمیں
اے سحر! موت کے سائے سے کہاں ڈرنا ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں