ہاتھوں کی لکیروں پہ مت جا اے انسان
مقدر ان کا بھی ہوتا ہے جن کے ہاتھ نہیں ہوتے
جو لڑتے ہیں طوفاں سے بنا کر خود ہی رستہ
وہ منزل کی تلاش میں کبھی ناچار نہیں ہوتے
مل جاتی ہے رفعت انہیں محنت کے صلے میں
جو قسمت کے بھروسے پہ عزادار نہیں ہوتے
پرندوں کو کہاں ملتی ہے لکھی ہوئی منزل
پر تول کے اڑتے ہیں وہ لاچار نہیں ہوتے
مٹ جاتے ہیں دنیا سے مگر جھکتے نہیں وہ
جو غیرتِ خودی کے کبھی غدار نہیں ہوتے
بدل دیتے ہیں دنیا کو وہ اپنی ہی لگن سے
جو حالات کے آگے کبھی تسلیم نہیں ہوتے
امید کا اک دیپ جلا کر تو دیکھو
سحر اندھیرے کبھی اتنے بھی پائیدار نہیں ہوتے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں