پتھر بنے ہیں اب تو یہ حیرت کیسی جناب
جب موم کے تھے ہم تو جلائے بہت گئے
ہم نے لٹائی عمرِ رواں جن کی راہ میں
وہ پہلے ہی موڑ پہ چھوڑ کے آگے نکل گئے
جن کے لیے بھلایا تھا ہم نے خودی کو بھی
وہ رخ بدل کے ہم سے چھپائے بہت گئے
آئے نہ زخمِ دل کی کبھی تاب ہم مگر
اس زندگی میں رنج و غم اٹھائے بہت گئے
اب تو لہو بھی خشک ہے آنکھوں کا اے جگر
دیدہِ تر سے اشک بہائے بہت گئے
بکھری ہیں کرچیاں مری ہستی کی چار سو
آئینے مری ذات کے توڑے بہت گئے
خلوت کی تیرہ بختی سے شکوہ نہیں ہمیں
ہمیں اجالوں کے بھی فریب آئے بہت گئے
ہم نے تو روشنی ہی لٹائی تھی عمر بھر
پر تیرگی کے سائے ستائے بہت گئے
اب تو دل پہ زخم کا کوئی اثر نہیں
اس شہرِ آرزو میں دکھائے بہت گئے
مقتل بنی ہے اب تو یہ خلوت گہِ ستم
بربادی کے یہاں پہ منائے بہت گئے
تاریکیِ شب سے اب ہمیں لگتا نہیں ہے ڈر
ہمیں اجالوں کے بھی فریب آئے بہت گئے
بجھ گئے ہیں آس کے سب ہی دیے سحر
پر یاد کے چراغ جلائے بہت گئے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں