تیرا چہرہ جو اک جھلک دکھ جائے(بقلم سحر علوی کتاب مونس جفا)

 تیرا چہرہ جو اک جھلک دکھ جائے  

دلِ ناداں کو سکون ہی مل جائے


تیری چاہت کا یہ اثر ہے کہ اب  

بن تیرے ایک پل نہ چین آئے


تیری قیمتی کج کلاہ باتوں کے آگے  

میرا ہر ایک غرور جھک ہی جائے


تُو جو مسکا کے بات کرتا ہے  

رنج و غم کا وہ دور مٹ جائے


تیری بانہوں کی اوٹ مل جائے  

کاش! سحر یوں زندگی کٹ جائے


تبصرے