جو اپنا تھا ہی نہیں، کیا ہوا جو کھو دیا ہم نے(بقلم سحر علوی کتاب مونس جفا)

 جو اپنا تھا ہی نہیں، کیا ہوا جو کھو دیا ہم نے

جو صرف اور صرف اسی کا تھا، وہ سب کھو دیا اس نے


محبت میں ملا جو درد، وہ چپ چاپ ہی جھیلا

دیا تھا زخم جو دل کو، بھلا کب رو دیا تم نے


فریب اس کا تھا، دھوکہ اس کا تھا، تو پھر یہ خوف کیسا؟

حسابِ حشر میں دیکھوں گی، ستم جو ڈھایا اس نے


وہ سمجھا تھا کہ ہم مٹ جائیں گے اس کے بدلنے سے

گرا کر اپنے ہاتھوں سے، اپنا ہی ایک ستارا کھو دیا اس نے


ہمیں تو مل ہی جائے گا سکونِ دل، خدا سے اب

گنوا کر ایک سچا دل، بڑا نقصان کیا سب نے


اندھیری رات کٹ جائے گی، ایمان ہے میرا

مٹا کر تیرہ بختی کو، نیا اک رخ دیا سحر نے


تبصرے