ہَم تُم سے مُحَبَّت نَہ کَرتے، نَجانے کَیا کَیا کَرتے(بقلم سحر علوی مونس جفا)

 اِک عُمْر گَن٘وائی ہے ہَم نے، اِک خواب کی حَسْرَت میں

ہَم تُم سے مُحَبَّت نَہ کَرتے، نَجانے کَیا کَیا کَرتے


طاقَت بھی گئی دِل کی، اور عُمْر بھی بَرْباد ہُوئی

اِس راہ میں بھَٹْکے نَہ ہوتے، تو دُنْیا فَتَح کَرتے


جو حاصِل ہی نَہِیں ہونا، کیوں اُس کے پِیچھے دَوْڑے

یَہ وَقْت جو خُود کو دیتے، تو اَپْنی قَدْر کَیا کَیا کَرتے


تِرے ہِجْر کے دُکھ نے تو، ہَمیں توڑ کے رَکھ ڈالا

ہَم اَپنے ہی رَن٘گ میں جِیتے، تو جِینے کا حَق اَدا کَرتے


بَرْباد ہُوئے اَیسے، کہ اَب کوئی آس نَہِیں رہی بَاقی

سَحَرؔ اِس عِشْق کے بَدْلے، ہَم خُود ہی خُود کو آباد کِیا کرتے


تبصرے