اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
وہ کاغذ کی کشتی، وہ بارش کا مہینہ
اب ڈھونڈنے سے بھی وہ خزانے نہیں آتے
دنیا کی ہوس نے ہمیں سنجیدہ بنا دیا
اب دل کو وہ معصوم بہانے نہیں آتے
مٹی کے کھلونوں سے وہ بہلایا ہوا دل
اب روٹھنے پر جس کو منانے نہیں آتے
ہر موڑ پہ چہروں پہ نئے چہرے سجے ہیں
کیوں لوٹ کے اب لوگ پرانے نہیں آتے
خوابوں کی اڑانیں بھی اب تھک ہار گئی ہیں
بچپن کی طرح اڑتے پرندے نہیں آتے
دنیا کی بھیڑ میں ہم تنہا کھڑے ہیں
سحر اب ہمیں وہ ہنسنے کے بہانے نہیں آتے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں