ہم انگلیوں کے پوروں سے ناپتے ہی رہ گئے اپنا نصیب، وہ جو کائناتِ دست تھے، کسی غیر کی جاگیر بن گئے!


 ہم انگلیوں کے پوروں سے ناپتے ہی رہ گئے اپنا نصیب،

وہ جو کائناتِ دست تھے، کسی غیر کی جاگیر بن گئے!

تبصرے