بڑے بے عدل ہیں ہم بھی محبت اور عداوت میں(بقلم سحر علوی کتاب سَحَرِ مُونِسِ جَفَا)


✨ بڑے بے عدل ہیں ہم بھی محبت اور عداوت میں ✨

جسے چاہا، اسی کی ہر خطا کو بھول بیٹھے ہیں 
جہاں نفرت ہوئی، حسنِ قبا کو بھول بیٹھے ہیں 

بڑے بے عدل ہیں ہم بھی محبت اور عداوت میں
ملا جو درد اک، تو پھر بہت دوا کو بھول بیٹھے ہیں 

کبھی اندھے بنے ایسے کہ عیبوں کو چھپایا ھے
کبھی رنجش میں اس کی پارسائی بھول بیٹھے ہیں 

ترازو عدل کا اپنے ہی ہاتھوں سے گرا کر ہم
بدلا جو ذرا موسم ، صفائی بھول بیٹھے ہیں 

اسی کی چاہ میں ہم نے برائی تک کو اپنایا
مگر وہ چاہ کو چھوڑے، برائی یاد رکھتے ہیں 

بدل ڈالا تھا خود کو جس کی حاکم سی انا خاطر
وہ اپنی ضد کو بھولے، اور  لغزش یاد رکھتے ہیں 

سحرؔ جو ہمکو ملے زخم کیا وہ مرہم بنے سارے 
خطا اک ہم سے کیا ہوئی، وہ سب بھول بیٹھے ہیں 

✍️ شاعرہ: سحرؔ علوی (Sahar Alvi)

تبصرے