دل کے رشتے بھی عجب ہوتے ہیں مونس
ایک ہی لمحے میں کوئی محبوب ہو جائے
عشق کی راہ میں چلنے والا ہر اک خواب
ٹوٹ جائے تو دل کا مکتوب ہو جائے
تری چاہت میں ملا غم کا ہی تحفہ دیکھو
دردِ دل اب تو مِرا مطلوب ہو جائے
جس کی خاطر لٹائی ہم نے یہ اپنی ہستی
وہی جفاؤں سے اب منسوب ہو جائے
رخ بدل کر جو چُھپاتے ہو تم چہرہ اپنا
ستم تمہارا یہ دل کو مرغوب ہو جائے
مٹ گئے ہم تو تری بے رخی کے ہاتھوں مونس
اب تو جینے کا ہنر مصلوب ہو جائے
بجھ گئے آس کے سب ہی دیے دیکھو سحرؔ
پر یاد کا چراغ ہی اب مغلوب ہو جائے.
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں