عشق بھی کر لیا اور سکون بھی چاہتے ہو
یعنی زہر بھی پی لیا اور جینا بھی چاہتے ہو
دل لگا کر کسی سے اب روتے ہو رات بھر
خود لائے ہو طوفاں اور سفینہ بھی چاہتے ہو
دردِ دل بھی ملا ہے اور رسوائی کا ڈر بھی ہے
آگ بھی چھپاتے ہو اور دھواں بھی چاہتے ہو
تیری محفل میں اب کوئی پرسانِ حال نہیں
شہرِ خاموشاں میں تم اب جینا بھی چاہتے ہو
غم کی اس تیرگی میں اک اُمیدِ نو ہو تم
بڑی ناداں ہو سحر، رات میں دن بھی چاہتے ہو
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں