Sad Urdu Poetry Ghazal - حالات کی گردش کا نچوڑا ہوا شخص بقلم سحر علوی


حالات کی گردش کا نچوڑا ہوا شخص
میں ہوں درِ محبوب سے ہی موڑا ہوا شخص

تو آئنہ ہے اور میں اک عکس ہوں تیرا
تو ٹوٹا تو میں دکھوں گا بکھرا ہوا شخص

جذبات کی دنیا کا ،میں چھوڑا ہوا شخص
کیا خاک جڑے گا، تیرے ہاتھ سے توڑا ہوا شخص

امید کی شمعیں بھی بجھیں وقت کے ہاتھوں
طوفان کی زد میں ہے یہ جھوڑا ہوا شخص

دیوارِ تمنا بھی گری دل کی زمین پر
ملبے تلے یادوں کے سکیڑا ہوا شخص

منزل کی طرف گامزن اب ہو نہیں سکتا
راہوں میں حوادث کا یہ روڑا ہوا شخص

احباب نے دیکھا نہ کبھی زخمِ جگر کو
محفل میں تو ہنستا ہے یہ توڑا ہوا شخص

سایہ بھی مرا مجھ سے خفا رہتا ہے ہر دم
تنہائی کی راہوں میں اب دوڑا ہوا شخص

کچھ خواب سجائے تھے جو مٹی میں ملائے
حسرت کی ہی باہوں میں مروڑا ہوا شخص

آسان نہیں ہجر کے صدمات کو سہنا
قسمت کے تقاضوں سے بچھوڑا ہوا شخص

پہچان نہیں پائے گی اب خلقِ خدا بھی
غم کے ہی غباروں میں سکوڑا ہوا شخص

دیکھے گی "سحر" اب نہ کبھی لوٹ کے واپس
اس بزم محبت سے مکھ موڑا ہوا شخص


تبصرے